دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں بھی ماسک پہنیں

صحت و تندرستی


ایک ایسے موقع پر جب کہ امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا مسلسل پھیل رہی ہے، وائٹ ہاؤس میں عالمی وبا سے متعلق ٹاسک فورس نے ہدایت کی ہے کہ جن گھروں میں وبا کا آسانی سے ہدف بنننے والے افراد موجود ہیں، وہاں لوگوں کو گھر کے اندر بھی ماسک پہننے چاہیئں۔

ٹاسک فورس کی کو آرڈی نیٹر ڈیبرا برکس نے اتوار کے روز سی این این کے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ اگر آپ کے گھر میں مختلف عمروں کے افراد رہتے ہیں۔ اور آپ کے شہر یا گاؤں میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے تو آپ کو اپنے گھر کے اندر بھی ماسک پہننے چاہیئں۔

کرونا وائرس اپنے ابتدائی مہینوں میں بڑے شہروں تک ہی محدود رہا لیکن اب وہ دیہی اور شہری آبادیوں، دونوں جگہ یکساں طور پر پھیل رہا ہے۔

کرونا وائرس ان لوگوں کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے جن کے اندر وائرس تو موجود ہو مگر اس کی علاماتیں ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ ایک تازہ مطالعاتی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً نصف کے لگ بھگ نئے کیسز میں وائرس ایسے لوگوں کے ذریعے منتقل ہوا جن میں اس وقت تک علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں جب انہوں نے اسے آگے منتقل کیا۔

برکس نے کہا کہ اگر آپ کے گھر میں ایسے افراد موجود ہیں جو کرونا وائرس کا آسان ہدف بن سکتے ہیں، مثلاً انہیں شوگر یا دل کے امراض ہیں تو پھر آپ یہ تصور کرتے ہوئے کہ آپ کرونا پازیٹو ہیں، انہیں محفوظ رکھنے کے لیے گھر میں ماسک پہنے رہیں۔

جانزہاپکننز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ایک سینئر سکالر امیش ادلجا کہتے ہیں کہ امریکہ کے بہت سے حصوں میں ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ انہیں کرونا لگ چکا ہے، اور وہ ٹیسٹنگ کے لیے بہت تاخیر سے اسپتال آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایمرجینسی ورکر ہے یا وہ کسی ایسی ملازمت پر ہے جس کے لیے اس کا باہر جانا ضروری ہے، تو یہ امکان موجود ہے کہ وہ ایسے افراد سے رابطے میں آ سکتا ہے جن میں وائرس موجود ہے۔ اور اگر وہ اپنے گھر میں کسی ناتواں شخص کے ساتھ رہ رہے ہیں تو اس صورت میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ زیادہ ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ہوا میں موجود آبی بخارات میں اس سے کہیں زیادہ وقت زندہ رہ سکتا ہے جتنا کہ اس سے پہلے خیال کیا گیا تھا، خاص طور پر بند جگہوں پر۔ اس صور ت میں اس سے بچنے کا موثر طریقہ ماسک کا استعمال ہے۔


Source link

اسی بارے میں مزید خبریں

Menu