صدر ٹرمپ کا بحرین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا اعلان

انٹرنیشنل


بحرین صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے وسیع تر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے رابطے قائم کرنے پر رضامند ہونے والا ایک اور عرب ملک بن گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعلان اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اور بحرین کے شاہ حماد بن عیسی الخلیفہ کے ساتھ سہ طرفہ ٹیلی فون کال کے بعد جمعے کے روز کیا۔

تینوں رہنماؤں نے اس معاہدے کی تصدیق میں چھ پراگرافس پر مشتمل ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اسے ایک اور تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔

امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی 19 ویں برسی سے ایک ہفتے سے بھی کم مدت بعد صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل تعلقات قائم ہونے سے متعلق ایک تقریب کی میزبانی کریں گے، جس میں بحرین کے وزیر خارجہ بھی شریک ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ نائن الیون سے جنم لینے والی نفرت کا اس سے زیادہ طاقت ور کوئی اور ردعمل نہیں ہو سکتا۔

صدارتی انتخابات سے دو مہینوں سے بھی کم عرصے پہلے یہ صدر ٹرمپ کی ایک اور سفارتی کامیابی ہے۔ پچھلے ہفتے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ کوسوو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور سربیا اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ، نتن یاہو اور شاہ حماد نے بیان میں کہا ہے کہ یہ مشرق وسطی میں امن کے فروغ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ براہ راست مذاکرات کی شروعات اور دو متحرک معاشرے اور ترقی کرتی ہوئی معیشتیں، مشرق وسطی کی مثبت سمت پیش رفت، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گی۔

نتن یاہو نے معاہدے کا خیرمقد م کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک عرب ملک کے ساتھ اور ایک تیسرے ملک کے درمیان دوسرا امن معاہدہ کرنے میں 26 سال لگے، لیکن تیسرے اور چوتھے معاہدے کے درمیان صرف 29 دنوں کا وقفہ ہے۔

وہ 1994 میں اردن کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے اور حالیہ معاہدوں کا ذکر کر رہے تھے۔

بحرین اب مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والا چوتھا عرب ملک بن گیا ہے۔

بحرین کا شمار دنیا کے سب سے چھوٹے ملکوں میں ہوتا ہے جس کا کل رقبہ 290 مربع میل ہے۔


Source link

اسی بارے میں مزید خبریں

Menu