وقف اراضی پر قبضہ جمانے والوں کی چوری اب آسانی سے پکڑی جاسکے گی، جانئے کیسے؟– Urdu News

مرکزی حکومت کی قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم کے ذریعہ جی پی ایس میپنگ کا کام ریاست کے 18 اضلاع میں جاری ہے۔ سال 2018 سے اس کام کا آغاز ہوا ہے۔ اب تک 14000 وقف املاک کو جی پی ایس کے تحت لایا گیا ہے۔

وقف اراضی پر قبضہ جمانے والوں کی چوری اب آسانی سے پکڑی جاسکے گی، جانئے کیسے؟

وقف اراضی پر قبضہ جمانے والوں کی چوری اب آسانی سے پکڑی جاسکے گی، جانئے کیسے؟

بنگلورو۔ کرناٹک میں وقف املاک کی حفاظت کے سلسلے میں اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہاں مرکزی حکومت کی اسکیم کے تحت وقف کی زمینوں، وقف کی عمارتوں کا جی پی ایس سروے اور میپنگ کا کام ہورہا ہے۔ GPS یعنی گلوبل پوزیشنینگ سسٹم، اس کے ذریعہ وقف جائدادوں کی تصویروں، وقف ملکیت کے نقشوں، وقف پراپرٹی کے اطراف کونسی عمارتیں، کونسی زمینیں موجود ہیں، وقف کی جائدادیں کہاں کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اس طرح کئی ایک تفصیلات گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

مرکزی حکومت کی قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم کے ذریعہ جی پی ایس میپنگ کا کام ریاست کے 18 اضلاع میں جاری ہے۔ سال 2018 سے اس کام کا آغاز ہوا ہے۔ اب تک 14000 وقف املاک کو جی پی ایس کے تحت لایا گیا ہے۔ مرکزی وقف کونسل کے نوڈل افسر برائے جنوبی ہند عطاء الرحمن نے کہا کہ وقف Assets منیجمنٹ سسٹم آف انڈیا جسے وامسی کے طور پر جانا جاتا ہے،  کے تحت دو بڑے کام انجام دئے جارہے ہیں۔ پہلا ہے Digitalisation آف ریکارڈز اور دوسرا ہے وقف پروپرٹیز کی جی پی ایس میپنگ۔ ریاست کرناٹک میں 32146 وقف ادارے موجود ہیں۔ ان میں تقریبا 13951 اداروں کی وقف پراپرٹیوں کی جی پی ایس نقشہ بندی مکمل ہوچکی ہے۔ عطاء الرحمن نے کہا کہ بنگلورو کی ایک نجی ایجنسی اس کام کو انجام دے رہی ہے۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے اس کام میں کچھ رکاوٹ پیدا ہوئی ہے لیکن اب آن لائن میپنگ کا یہ کام دوبارہ شروع ہوا ہے۔ عطاء الرحمن نے کہا کہ جی پی ایس میپنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ وقف املاک پر ہونے والے ناجائز قبضوں کا پتہ آسانی کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے۔ وقف کی زمینوں پر ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی بھی فوری طور پر کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر پراپرٹی کی ایک آئی ڈی موجود رہتی ہے۔ سینڑل وقف کونسل یا WAMSI  یعنی وقف Assets  منیجمنٹ سسٹم آف انڈیا کے ویب سائٹ سے رجوع ہوکر لوگ اپنے موبائل فون اور کمپیوٹر کے ذریعہ ریاست کے کسی بھی حصے میں موجود وقف پراپرٹی کو دیکھ سکتےہیں۔ یہاں ہر پراپرٹی کی پانچ تصویریں موجود رہتی ہیں۔ ان تصویروں اور وقف کی پوری جائداد کو زوم ان کرتے ہوئے انتہائی باریکی کے ساتھ وقف املاک کا معائنہ کیا جاسکتا ہے۔جی پی ایس میپنگ کے بعد وقف املاک پر کوئی نئی تعمیرات یا وقف اراضی کی سرحدوں پر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کی معلومات فوری طور پر مل جاتی ہیں۔ وقف بورڈ کے افسران مقامی وقف افسر کو چوکنا کرسکتے ہیں۔ عوام بھی اس کے ذریعہ وقف املاک پر گہری نظر رکھ سکتی ہے۔وامسی کے  ویب پورٹل میں وقف املاک کے سیٹلائٹ امیجوں کے علاوہ وقف پراپرٹی کی مکمل جانکاری  فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مرکزی وقف کونسل کے نوڈل افسر عطاء الرحمن نے کہا کہ وقف جائدادوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے لوگوں کو وقف بورڈ یا وقف کمیٹیوں کے دفتروں کو جانے کی ضرورت نہیں۔ بس گھر بیٹھے ہی WAMSI کے ویب سائٹ کے ذریعہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ عطاء الرحمن نے کہا کہ اس کوشش کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ وقف املاک پر ہونے والے ناجائز قبضوں کو روکا جاسکتا ہے۔ وقف بورڈ کے دفتر میں بیٹھ کر ہی ریاست بھر میں موجود تمام وقف املاک پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ وقف املاک کی حفاظت اور ترقی کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں۔ اب امید کی جارہی ہے کہ جدید ٹکنالوجی کی مدد سے وقف کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔


Source link

Menu