مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات شدید اندرونی اور بیرونی خلفشار کا شکار، تین حصوں میں بٹ گئی

مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات شدید اندرونی اور بیرونی خلفشار کا شکار، تین حصوں …

دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات آج کل شدید اندرونی اور بیرونی خلفشار کا شکار ہے اور تین حصوں میں بٹ گئی ہے ۔ پی ایم ایل این یو اے ای کے سابق صدر چودھری محمد الطاف اور چیئرمین شیخ محمد عارف کے انتقال کے بعد پی ایم ایل این اوورسیز کے صدر اسحق ڈار نے رواں سال کے ماہ اگست میں غلام مصطفی مغل کو پی ایم ایل این یو اے ای کا صدر اور محمد غوث قادری کو چیئرمین کے عہدوں پرمامور کردیا تھا جبکہ باقی تمام عہدیداران کے لیے حکم صادر کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے عہدوں پر کام کرتے رہیں لیکن غلام مصطفی مغل نے اپنے ذاتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پی ایم ایل این یو اے ای کی مختلف ریاستوں میں عہدیداران تبدیل کردئیے اور کچھ جگہوں پر نئے عہدیداران کا اعلان کردیا چونکہ یہ نئے عہدیدار پی ایم ایل این گلف ومڈل ایسٹ کی سینئر قیادت چودھری احسان الحق باجوہ اور محمد افتخار بٹ کی منظوری کے بغیر کیے گئے تھے لہٰذا متذکرہ دونوں سینئر عہدیداران نے غلام مصطفی مغل کی طرف سے کئے جانے والے تمام نوٹیفکیشن معطل کردئیے۔

غلام مصطفی مغل کی طرف سے کئے جانے والے نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کا اعلان پاکستان مسلم لیگ ن مڈل ایسٹ و گلف ریجن کے صدر چودھری احسان الحق باجوہ اور جنرل سیکرٹری محمد افتخار بٹ نے پی ایم ایل این کے سینئر کارکنوں کی ایک خصوصی میٹنگ کے دوران کیا جس میں جان قادر، عرفان اقبال طور، شہزاد بٹ، راجہ ابوبکر آفندی، ملک شہزاد یونس، چودھری راشد فاروق، چودھری عبدالغفار، چودھری صغیر احمد اور عارف عامر منہاس کے علاوہ دیگر لیگی کارکن موجود تھے۔ اس موقع پر احسان الحق باجوہ اور محمد افتخار بٹ نے کہا کہ پی ایم ایل این یو اے ای کے موجودہ صدر غلام مصطفی مغل نے اپنی مرضی سے قواعد و ضوابط کی پابندی کئے بغیر شارجہ، دبئی، راس الخیمہ اور ام القیوین کے صدور مقرر کردئیے جبکہ مختلف لوگوں کو چیئرمین، چیف کوآرڈینیٹر اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے بھی دے دئیے۔ ان عہدوں کا اعلان کرتے وقت نہ تو پی ایم ایل این گلف و مڈل ایسٹ کی اعلیٰ قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی یو اے ای میں پی ایم ایل این کے سینئر لوگوں سے مشورہ کیا گیا۔

نوٹیفکیشن منسوخ کرتے ہوئے چودھری احسان الحق باجوہ اور محمد افتخار بٹ نے کہا کہ غلام مصطفی مغل کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی نوٹیفکیشن کی کوئی حیثیت نہیں ہے لہٰذا انہیں منسوخ تصور کیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماﺅں نے گلف و مڈل ایسٹ کی سینئر قیادت کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ کچھ بیرونی عناصر جن کا تعلق پی ایم ایل این یو اے ای سے نہیں ہے اور وہ آج کل یہیں مقیم ہیں وہ پی ایم ایل این کے اندرونی حالات خراب کررہے ہیں اور ان کی بے جامداخلت کی ہی وجہ سے پی ایم ایل این یو اے ای کے حالات خراب ہیں اور وہ اندرونی خلفشار کا شکار ہے ۔ اگر بیرونی مداخلت بند نہ ہوئی تو پی ایم ایل این یو اے ای مزید ٹکڑوں میں تبدیل ہوجائے گی جس کے ذمہ دار بیرونی مداخلت کار اور ان کی بات ماننے والے ہوں گے۔ پی ایم ایل این کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر متعلقہ افراد کی پارٹی امور میں مداخلت کے بارے سینئر قائدین کو بھی آگاہ کیا جائے گا تاکہ غیر متعلقہ افراد کی بیرونی مداخلت کی وجہ سے پی ایم ایل این کا اتحاد پارہ پارہ نہ ہو۔

یاد رہے کہ جب سے غلام مصطفی مغل کو پی ایم ایل این یو اے ای کا عہدہ ملا ہے تب سے ہی مسلم لیگ ن کے حصے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ایم ایل این کے دیگر پرانے عہدیداروں، کارکنوں اور ورکروں کا کہنا ہے کہ غلام مصطفی مغل ایک خاص علاقہ کے لوگوں کو ہی مسلم لیگ ن میں عہدے دے رہے ہیں جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ایسے میں مغل صاحب کے لیے ایک ہی مشورہ ہے کہ ناراض کارکنوں کو منائیں اور پی ایم ایل این کا اتحاد برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

مزید :

عرب دنیاتارکین پاکستان




Source link

مینو