کیا لیوٹن میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟ انگلینڈ کے مختلف حصوں میں تین درجنوں کا الرٹ نافذ

کیا لیوٹن میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟ انگلینڈ کے …

لیوٹن  (اسرار احمد خان ) برطانیہ میں دوسری کارونا لہر سے بڑھتے کیسز کی وجہ سے گورنمنٹ نے تھری لیول الرٹ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے جس کے مطابق انگلینڈ کے مختلف حصوں میں پابندیوں کو تین درجوں میڈیم ، ہائی اور ویری ہائی ٹائر میں نافذ العمل کیا گیا ہے ، گورنمنٹ کے اس نئے تھری ٹائر سٹم کے مطابق لیوٹن اس وقت ٹیئر ون یعنی درمیانی درجے کی پابندیوں میں شامل ہے  تاہم لوکل اتھارٹیز نے ماجودہ صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے کمیونیٹی کو رضاکارنہ طور پر خود پر سخت سماجی پابندیاں لاگو کرنے کی تاکید کی ہے- 

اس موقع پرکونسل لیڈر ہیزل سمنزکا کہنا تھا کہ اگرچہ اس بات کو ہضم کرنا مشکل ہے لیکن ملک میں بڑھتے کیسز اور بارو کونسل جو اس وقت  صحت کے سخت بحران کا شکار ہے اور گھمبیر صورتحال سے نمٹنے کے لیے لیوٹن کے میکنوں کو چاہیے کہ وہ سماجی احتیاطی تدابیر کو بہترانداز میں استعمال میں لاتے ہوئے سختی سے عمل کرے تاکہ ہم بڑے کرائسس سے بچ سکے ۔

ڈپٹی میئر لیوٹن کونسلر سمیرا خورشید نے اس موقع پر ڈیلی پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی خطے میں لیوٹن اس وقت زیادہ وائرس کی ذد میں ہے، آئے روز کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں سنجیدگی سے  سماجی میل جول کو بند کرنا چاہیے، اور یہ صرف لوکل اتھارٹیز کی ذمہ داری نہیں بنتی بلکے لیوٹن کے تمام میکنوں کو سختی سے اس پر عمل پرا ہونا چاہیے اور باقاعدگی سے  اپنے کارونا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ خود کو بھی اس ناگوار اور ناگہانی صورت حال سے بچائے اور زیادہ سے زیادہ کمیونٹی کو بھی رہنے کے لیے محضوظ جگہ بنائے ۔

ستارہ قاہد آعظم ممبر ہاوس اف لارڈز لارڈز قربان حسین نے ڈیلی پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیوٹن میں کارونا سے متعلق عداد و شمار روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہیے ہیں ، تاہم ایسے لگتا ہے کہ اس قصبے کے لوگ نسبتا” بہتر احتیاط سے کام لے رہے ہیں جس کے نتیجے میں ابھی تک ٹیئر 2 یا ٹیئر 3 کے نفاذ سے بچے ہوے ہیں۔ آگے آنے والے موسم سرما میں اس وباء کے پھیلنے کے بڑھتے ہوے امکانات کے پیش نظر لیوٹن کے میکنوں کو مزید سختی سے حکومتی ہدایات پر عمل کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔

لیوٹن کونسل اف فیتھ کے چرمین پروفیسر ظفر خان نے کہا کہ لیوٹن اس وقت  ٹیئر1 میں ہے جبکہ ٹیئر 2 اور 3 کے علاقے کافی تشویشناک اور پریشان کن صورتحال سے دو چارہیں تاہم لیوٹن کے غیر سرکاری اور سرکاری  اداروں کے درمیان تعمیری اور مثبت باہمی تعاون اور روابط  کی  بدولت حفاظتی انتظامات اور کمیونٹی سطح پر رابطوں کو خصوصی ترجیح دی جاتی ہے ، اس باعث ہرممکن کوشش  یہی ہوگی کہ لیوٹن ٹیئر 1 میں ہی رہے۔

ایوارڈ یافتہ لیوٹن کے ممتازجی پی ڈاکٹر طاہر لون جو مارچ لاک ڈاون میں خود بھی کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ لیوٹن میں پچھلے دوہفتوں میں کارونا وائرس کی تعداد میں بہت تیزی سے آضافہ ہو رہا ہے اور اس باعث چند اموات بھی ہوئی ہیں لہذا اس موقع پر کمیونٹی کو سنجیدگی سے وائرس کو صحت کا بڑا خطرہ جانتے ہوے اس کی روک تھام کی مہم میں بڑھ چڑ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ کمیونٹی کو مذید اموات سے بچایا جا سکے ۔

لیوٹن بارو کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق 2 لاکھ 14 ہزار نفوس پر مشتمل اس قصبےکے میکنوں کو انفکشن پر مل جل کر قابو پانا یو گا، تاہم پچھلے ایک ہفتے کے اعداد و شمار کے مطابق لیوٹن میں ایک لاکھ لوگوں میں کوڈ انفکشن کی شرح میں87 فیصد سے 138 فیصد آضافہ ہوا ہے ۔

مزید :

برطانیہکورونا وائرس




Source link

مینو